رول نمبر سلپ لینے نکلی تھی — تین دن بعد لاش واپس آئی! جھنگ میں چار درندوں نے 17 سالہ طالبہ کو موت کے گھاٹ اتار دیا!
جھنگ میں ایک 17 سالہ فرسٹ ایئر کی طالبہ صرف اپنی رول نمبر سلپ لینے گھر سے نکلی تھی — ایک معصوم کام، ایک چھوٹا سا قدم — اور یہی آخری قدم ثابت ہوا۔ راستے میں چار درندوں نے اسے اغوا کر لیا اور تین دن تک مسلسل اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے۔ جب اس کی حالت انتہائی خراب ہو گئی تو انہوں نے اسے نجی ہسپتال میں پھینک دیا، جہاں سے DHQ ہسپتال جھنگ ریفر کیا گیا — لیکن وہ بچ نہ سکی اور گزشتہ رات اس دنیا سے چلی گئی۔
وہ پڑھنا چاہتی تھی — امتحان دینا چاہتی تھی — اپنی زندگی بنانا چاہتی تھی۔ اور ان درندوں نے تین دن میں اس کی پوری زندگی چھین لی۔
یہ چار ملزمان ابھی تک کہاں ہیں؟ کیا گرفتار ہوئے؟ کیا پولیس نے کوئی کارروائی کی؟ یا یہ کیس بھی فائلوں میں دب جائے گا؟
پولیس ڈیپارٹمنٹ، قانونی اداروں، وزیراعلیٰ مریم نواز، وزیراعظم شہباز شریف اور گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان سے مطالبہ ہے کہ ان چاروں درندوں کو فوری گرفتار کیا جائے اور سرعام ایسی عبرتناک سزا دی جائے کہ آئندہ کوئی اور درندہ کسی کی بیٹی کی طرف آنکھ اٹھانے کی جرأت نہ کر سکے۔(پولیس زرائع کے مطابق تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے)
والدین سے گزارش — خدارا اپنی بیٹیوں کو اکیلا نہ نکلنے دیں، ان کے ساتھ جائیں یا کسی قابل اعتماد شخص کو ساتھ بھیجیں۔ بیٹیوں کو سیلف ڈیفنس ضرور سکھائیں۔ یہ معاشرہ اب محفوظ نہیں رہا — لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہتھیار ڈال دیں، بلکہ ہم اور زیادہ چوکس ہو جائیں۔
یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں ایک بچی رول نمبر سلپ لینے بھی محفوظ نہیں؟ یہ سوال ہم سب سے ہے — حکومت سے بھی، پولیس سے بھی اور ہم سب سے بھی جو خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔
اللہ تعالیٰ اس معصوم طالبہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دے، اس کے گھر والوں کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان چاروں درندوں کو دنیا اور آخرت دونوں میں عبرتناک سزا دے — آمین!