الخدمت فاؤنڈیشن جھنگ کی وسعت ،یتیم بچے اور ہماری زمہ داریاں…. تحریر :ڈاکٹر اعجاز علی چشتی

فکرِ اعجاز
۔…………..
لفظوں میں محبت، فکر میں روشنی، اور نیت میں اخلاص کا پیغام
۔……………………………….
الخدمت جھنگ کی وسعت، یتیم بچے… اور ہماری ذمہ داریاں
۔……..,……………….
✍️ تحریر: ڈاکٹر اعجاز علی چشتی
۔…………………………
جھنگ ایک بار پھر خدمتِ انسانیت کے ایک بامقصد اور امید افزا منظر کا گواہ بنا، جب الخدمت فاؤنڈیشن جھنگ کی جنرل کونسل کا اجلاس الخدمت مرکز میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت ڈاکٹر سہیل فاروق، صدر الخدمت فاؤنڈیشن جھنگ نے کی، جبکہ جنرل کونسل کے ذمہ داران کی بھرپور شرکت نے اس اجتماع کو فکری اور عملی وزن بخشا۔

اجلاس کا ایک نمایاں اور خوش آئند پہلو کمانڈر (ر) صہیب فاروق کو الخدمت فاؤنڈیشن جھنگ کا پیٹرن چیف بننے پر مبارکباد پیش کرنا تھا۔ یہ ذمہ داری محض ایک عہدہ نہیں بلکہ اعتماد، خدمت اور قیادت کی اس روایت کا تسلسل ہے جس پر الخدمت فاؤنڈیشن برسوں سے کاربند ہے۔

اس موقع پر الخدمت فاؤنڈیشن جھنگ کے تمام شعبہ جات کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ خصوصاً آرفن کیئر پراجیکٹ کے تحت زیرِ کفالت بچوں کی نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں جماعتوں میں نمایاں پوزیشنز حاصل کرنے پر فورم کو مبارکباد پیش کی گئی۔ یہ کامیابیاں اس حقیقت کی گواہی ہیں کہ اگر یتیم بچوں کو صرف سہارا ہی نہیں بلکہ اعتماد، توجہ اور درست رہنمائی ملے تو وہ بھی معاشرے کا قابلِ فخر سرمایہ بن سکتے ہیں۔

یہ بات محض جذباتی نعرہ نہیں بلکہ عملی حقیقت ہے کہ الخدمت فاؤنڈیشن جھنگ ہر ماہ 223 یتیم بچوں کو براہِ راست ان کے بینک اکاؤنٹس میں تقریباً 17 سے 18 لاکھ روپے کی مالی معاونت فراہم کر رہی ہے۔ یہ مستقل کفالت، تعلیم، خوراک اور باعزت زندگی کی ضمانت ہے—خاموش، منظم اور باوقار انداز میں۔

اجلاس میں آئندہ کے لائحۂ عمل پر سنجیدہ غور کیا گیا اور متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ یکم فروری کو ڈونر کانفرنس منعقد کی جائے گی، تاکہ جھنگ کے اہلِ دل مخیر حضرات خدمتِ انسانیت کے اس مشن میں مزید مؤثر انداز میں شامل ہو سکیں۔

صدر الخدمت فاؤنڈیشن جھنگ ڈاکٹر سہیل فاروق نے کہا کہ ہم سب خدمتِ انسانیت کے لیے مصروفِ عمل ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد مستفید ہوں۔ انہوں نے اپیل کی کہ الخدمت فاؤنڈیشن سے تعاون کو محض عطیہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی سماجی ذمہ داری سمجھا جائے۔
لیکن یہاں ایک سوال ہے جو ہم سب کے ضمیر سے مخاطب ہے۔

ہم یتیم بچوں کے بہتر مستقبل کی بات تو کرتے ہیں، مگر کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے یہ سوچا کہ اگر الخدمت جیسے ادارے نہ ہوں تو یہ بچے کس در پر دستک دیں گے؟
ہم اکثر صدقہ اس وقت دیتے ہیں جب جیب اجازت دے،
مگر معاشرے اس وقت سنورتے ہیں
جب دل اجازت دے۔
الخدمت فاؤنڈیشن نہ شور مچاتی ہے،
نہ مطالبے کرتی ہے،
نہ کسی پر بوجھ بنتی ہے—

مگر وقت ایک دن ہم سب سے ضرور سوال کرے گا
کہ جب خدمت کا موقع ہمارے سامنے تھا، ہم کہاں کھڑے تھے؟
یہ سوال صرف اداروں سے نہیں، ہم سب کے ضمیر سے ہے۔
اگر آج الخدمت ہر ماہ 223 یتیم بچوں کے اکاؤنٹس میں 17،18 لاکھ روپے بھیج رہی ہے تو یہ کسی ایک کا نہیں، ایک اجتماعی احساس کا ثبوت ہے۔

مگر یاد رکھیے، یتیم کی ضرورت وقتی نہیں ہوتی۔
الخدمت دروازے پر آ کر کچھ مانگتی نہیں، بس راستہ دکھا دیتی ہے۔
اب یہ ہم پر ہے کہ اس راستے کو اختیار کریں یا خاموش رہیں۔
یہی وہ وقت ہے
جب فکر کو فیصلہ
اور فیصلے کو عمل میں بدلنا ہے—آج، ابھی۔

شیخ غلام مصطفیٰ سی ای او و چیف ایڈیٹر جھنگ آن لائن نیوز نیٹ ورک 923417886500 +