امتحان زندگی کا ہو یا تعلیمی نشیب و فراز کا ممکن نہیں انسان کو وہ کامیابیاں دستیاب ہوں جو اس کی علمی استعداد کے مطابق ہوں، کچھ ایسا ہی نویں جماعت کے طالب علموں کے ساتھ ہوا ہے –
ہزاروں طلبہ و طالبات اپنے امتحانی نتائج دیکھ رہے ہیں۔ کسی کے لیے یہ دن خوشی اور فخر لے کر آیا ہے، کوئی اپنی توقع سے کم نمبر دیکھ کر پریشان ہے جبکہ کچھ بچوں کو ناکامی کا سامنا بھی کرنا پڑا ہوگا۔ لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں صرف اچھے نمبر ہی زندگی کا فیصلہ نہیں کرتے اور کم نمبر یا ناکامی بھی انسان کی صلاحیتوں کا آخری فیصلہ نہیں ہوتی۔
جن طلبہ نے اچھے نمبر حاصل کیے ہیں انہیں دل سے مبارکباد۔ یہ ان کی محنت کا نتیجہ ہے اس کامیابی پر خوش ہوں اور اپنے والدین و اساتذہ کا شکریہ ادا کریں لیکن اسے منزل نہ سمجھیں۔ تعلیم کا سفر ابھی بہت طویل ہے۔ اپنی محنت کے ساتھ عاجزی اور سیکھنے کا جذبہ بھی برقرار رکھیں۔جن بچوں کا نتیجہ ان کی توقع کے مطابق نہیں آیا وہ خود کو ناکام نہ سمجھیں۔ کم نمبر آنے یا امتحان میں فیل ہونے سے مواقع ختم نہیں ہوجاتے۔ جہاں کمی رہ گئی اسے تلاش کریں اپنی غلطیوں سے سیکھیں اور اگلی بار زیادہ بہتر تیاری کے ساتھ واپس آئیں۔
کبھی کبھی ایک ناکامی انسان کو وہ سبق دے جاتی ہے جو کامیابی نہیں دے پاتی۔والدین سے بھی گزارش ہے کہ آج بچوں کے ہاتھ میں صرف رزلٹ کارڈ نہ دیکھیں بلکہ اس محنت کو بھی دیکھیں جو انہوں نے امتحان تک پہنچنے کے لیے کی۔ اچھے نمبر آئے ہیں تو حوصلہ بڑھائیں اور اگر نتیجہ توقع کے مطابق نہیں تو ڈانٹ طعنوں اور دوسروں سے موازنے کے بجائے بچے کا ہاتھ تھامیں۔ اسے یہ احساس دیں کہ نتیجہ جیسا بھی ہو ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ والدین کا ایک حوصلہ افزا جملہ بعض اوقات بچے کو وہاں سے دوبارہ کھڑا کر دیتا ہے جہاں وہ خود کو بالکل ہارا ہوا سمجھ رہا ہوتا ہے۔
بچو! زندگی صرف نمبروں کا نام نہیں۔ علم کے ساتھ کردار ہنر محنت صبر اچھا اخلاق اور مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ بھی انسان کو آگے لے جاتا ہے۔ آج کا رزلٹ آپ کی زندگی کا ایک صفحہ ہے، پوری کتاب نہیں۔اگر آج کامیابی ملی ہے تو شکر کریں اگر مایوسی ملی ہے تو خود کو سنبھالیں۔ اپنے آپ کو کسی دوسرے کے نمبروں سے مت پرکھیں کیونکہ ہر انسان کی صلاحیت حالات اور سفر مختلف ہوتا ہے۔اور یہ بھی یاد رکھیں کہ آپ ان لاکھوں بچوں سے خوش قسمت ہیں جنہیں شاید کبھی اسکول جانےکتابیں پڑھنے یا امتحان دینے کا موقع ہی نہیں ملا۔
آپ نے کوشش کی کتابیں پڑھیں امتحان دیا اور آج اپنے نتیجے کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ بھی ایک کامیابی ہے۔اس لیے اچھا نتیجہ آیا ہے تو آگے بڑھتے رہیں نتیجہ کم آیا ہے تو اپنی کمزوری دور کریں اور اگر ناکامی ہوئی ہے تو دوبارہ کوشش کریں۔ زندگی میں اصل شکست گر جانا نہیں بلکہ گر کر دوبارہ اٹھنے سے انکار کرنا ہے۔آپ کا رزلٹ چند نمبروں کا حساب ہےآپ کی اصل پہچان آپ کا کردارمحنت صلاحیت اور حوصلہ ہے۔ راستہ ابھی بہت باقی ہے۔
عمران کملانہ
شیخ غلام مصطفیٰ سی ای او و چیف ایڈیٹر جھنگ آن لائن نیوز نیٹ ورک 923417886500 +