عنوان ۔سوشل میڈیا کا استعمال
تحریر ۔مسرت ریاض جعفری
مرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
مرا قلم تو عدالت مرے ضمیر کی ہے
تمام عمر کی ایذا نصیبیوں کی قسم
میرےقلم کا سفر رائیگاں نہیں جاۓ گا
(احمد فراز )
مسرت کی طرف سے مسرت بھرا سلام سب کو ۔میں امید کرتا ہوں میرے سوشل میڈیا (پرنٹ + الیکٹرک ) کے تمام بہن اور بھائی خیر و عافیت اور نیک مطلوب ھوں گے ۔خیر میں نے اپنے آج کے بے حس دور عصر میں زندہ ضمیر کو حق اور سچ کی آواز بلند کرتے ھوئے دیکھا تو میں ساکت اور ساکن نہ رہ سکا میرے ولولہ انگیز روحانی جذبات ،فکرات اور انمول لمحات کو تازہ دم ضمیر کی جب آواز کو حق کا علمبردار بلند ھوتے ھوئے پایا تو ہاتھ نے قلم تھاما زبان نے درود پاک کا ورد پڑھا اور آج کے حالات حاضرہ پر گفت و شنید کرنے کو میرا من بے تابی کے عالم میں صدا دینے لگا کہ اس دور جدید میں نوجوان نسل کے لیے سبق آموز سیاق و سباق دینے کے لیے ایک سبق آموز خلاصہ جو کہ آرٹیکل کی تشبیہ میں کیوں نہ مرتب کیا جاۓ –
تو اس حوالہ سے آرٹیکل / لکھنا ضروری ہی نہیں بلکہ مجبوری بھی سمجھا اور مجبوری کا نام شوق اور شوق کا نام علم و ادب کی اخلاقی و روحانی تربیت سے منسلک پرورش ھے ۔خیر میں نے اس اکیسویں صدی کے دور جدید میں سوشل میڈیا کے حوالہ سے ایک آرٹیکل جو اس نازک وقت اور خاص الخاص میرے ملک عزیز پاکستان ،صوبہ پنجاب اور ضلع جھنگ کے پڑھی لکھی کمیونٹی کے لیے بہت ہی اہمیت کا حامل هو جو ایسا آرٹیکل پبلش اور پبلک ضرور کروانا چاھئیے ۔سوشل میڈیا وہ چیز یا چینل ہے جس کے زریعے ہم کم وقت میں کسی بھی انسان سے کسی بھی جگہ پر اپنا اظہار خیالات کر سکتے ھیں –
کیونکہ سوشل میڈیا نے پوری دنیا کو گلوبل ویلج مطلب ایک مٹھی میں سمیٹ کر دنیا کو رکھ دیا اور گاؤں کی دنیا بنا کر رکھ دیا ہے جس کی دو اہم اقسام ھیں ایک پرنٹ میڈیا جس میں اخبارات اور دوسرا الیکٹرک میڈیا جس میں نیوز چینل وغیرہ یا یو ٹیوب چینل وغیرہ کی اقسام آ جاتی ھیں اس کے بعد اگر سوشل میڈیا کے گوگل اکاؤنٹ کی سوشل ویب سائٹس کی بات کرے تیسرے نمبر پر تو اس میں مختلف اکاؤنٹس کی آئ ڈی بنا سکتے ھیں اور سامنے آتی ہیں-
جس میں فیس بک ،واٹس ایپ ،ایمو ،ایکس اکاؤنٹ،انسٹاگرام ،ٹک ٹاک اور ٹک ٹاک اکاؤنٹ لائیو وغیرہ بنائے جا سکتے ھیں اس کے علاوہ دیگر اذاں اکاؤنٹس بھی ھیں لیکن ہم بات کرے گے سوشل میڈیا اور خاص طور پر اس کے اکاؤنٹ ٹک ٹاک اور ٹک ٹاک لائیو اکاؤنٹ آئ ڈی کی کہ آیا آج کے دور جدید میں نفس و نفسی کے عالم میں ہم اس کو مثبت استمال کرنے کی بجائے منفی اسعمال کیوں کر رہے ہیں-
اور ہم میں قوت برداشت کیوں کم ہوتی جا رہی ہیں اور اس کا ناجائز استعمال کس طرح بے راہ روی کی طرف جا رہی ہے جانی دشمنی اس سے زیادہ کیوں جنم لے رہی ہیں ایک گروپ سیر تو دوسرا کم علمی و کم فہمی کی وجہ سے اپنے آپ کو سوا سیر کیوں سمجھتا ہے اس کا نتیجہ بلآخر جانی و مالی نقصان کی طرف کیوں جا رہا ہے سب اہم امور کے حوالہ سے اہم باتیں آج آپ کو بتائی جاۓ گی ۔۔۔
جی ہاں !تو آج کے عنوان کی نسبت سے ہم بات کرے گے کہ سوشل میڈیا کے اچھے استعمال سے ہم ہر لحاظ سے آگے جا سکتے ھیں عزت ،شہرت اور مال و دولت کے حوالہ سے مال و متاع بھی هو سکتے ھیں ۔۔۔خیر لیکن افسوس صد افسوس آج کی ہماری نوجوان نسل نے جب سے اس کو غلط استعمال کرنا شروع کیا ہے تو نتائج بھی برے آنا شروع هو گے اچھا استعمال کرے گے تو ہر لحاظ سے آگے جاۓ گے لیکن اس کے برعکس غلط استعمال زیادہ کرنے لگ گے ھیں دھمکیاں آمیز پیغام خاص طور پر آج ٹک ٹاک اکاؤنٹ اور ٹک ٹاک لائیو کی بات کرنا چاہ رہا ھوں جس کو پاکستان میں مکمل طور پر بند اور بين بھی ہونا چاہئے غلط استعمال سے کتنے گھروں کے سہاگ اجڑتے دیکھ رہا ھوں تو کبھی کسی بیٹی یا بیٹے سے اسکا سربراہ بطور فیملی ہیرو کو اس دنیا سے جاتے دیکھ رہا ھوں-
تو کبھی فیملی کے زیرو کو مختلف زندگی کے حالات سے جنگ کی بازی ہارتے ھوئے دیکھ رہا ھوں ،کبھی کسی کو سوشل میڈیا کی وڈیوز پر جنگل کے دنگل میں مرتے ھوئے دیکھ رہا ھوں تو کسی کو بھرے شہر و بازار کی شاہروں پر اس دنیا فانی سے کوچ کرتے دیکھ رہا ھوں ،کبھی دو گروپوں الف اور ب کی جانی دشمنی میں اللّه واسطے کی موت میں راہ گیر کو اپنے بچوں سے موت کی شکل میں جدا ہوتے دیکھ رہا ھوں ، کبھی امن کے علاقہ کو بد امنی کے علاقہ کا روپ ڈھالتے دیکھ رہا ھوں
کبھی سوشل میڈیا پر کسی فیملی کے ہیرو کو تو کبھی کسی فیملی کے زیرو کو اس دنیاوی دشمنی سے جاتے دیکھ رہا ھوں ،کبھی کسی سیاسی کو امن کے حالات کو بہتر سے بہترين کی طرف لاتے ھوئے دیکھ رہا ھوں تو کبھی سیاسیوں کو فصلی پرندوں کی طرح الیکشن کی کمپین کرتے ھوئے صرف اپنا چہرہ مبارک پانچ دن کے لیے دیکھ رہا ھوں ،کبھی کسی قوم کے عروج کو زوال تو کبھی کسی قوم کے زوال کو عروج میں تبدیل هوتے دیکھ رہا ھوں،ک
بھی امن کے علاقہ کے کاروباری حضرات کو بدامن علاقہ ہونے کی وجہ سے کاروباری حضرات لوگوں کے بچوں کو غربت و افلاس سے مرتے ھوئے دیکھ رہا ھوں ،کبھی مارکیٹنگ ویلیو نوجوان کی لڑائیوں کی صورت میں گرتے ھوئے دیکھا تو کبھی انکو اپنے بدامن علاقہ سے ہجرت کرتے ھوئے پایا ،کبھی کسی ٹک ٹاک کے بے نام بدمعاشوں کو شریف گھرانوں کے لوگوں کو بدمعاشی گروپ میں دیکھا تو کبھی کسی کو اپنے آپ میں بطور لیڈر بن کر انقلابی لیڈر بنتے دیکھا ،
کبھی کسی کو عام سی لڑائی چاٹ اور مک کی لڑائی کو 324 سیکشن میں تبدیل هوتے دیکھا تو کسی کو 302 کی قتل و غارت کی لڑائی میں نسل در نسل لڑتے دیکھ دیکھ رہا ھوں تو کبھی کسی کو قتل و غارت کی لڑائی کو ختم کر کے امن و محبت کی فضاء اور درسگاہ میں تبدیل هوتے دیکھ رہا ھوں ،کبھی دو لڑاکوں گروپوں کے بارے میں منفی خیالات کو جنم هوتے دیکھ رہا تو کبھی دو لڑاکوں گروپوں کے بڑوں کی سیاسی ،سماجی اور کاروباری ساکھ کو نیست و نابود هوتے دیکھ رہا ھوں ،
کبھی اپنی جوان نسل کو بے راہ روی تعلیم کی درسگاہوں سے کوسوں دور کی طرف دیکھ رہا ھوں سوشل میڈیا کے غلط استعمال اور کنٹینٹ کی وجہ سے ،تو کبھی دربار پاک جو عبادت گاھیں روحانی وہاں پر ٹک ٹاک آئ ڈی پر سونگ لگاتے ھوئے نوجوانوں کے بے حیائی پھیلاتے ھوئے دیکھ رہا ھوں ،کبھی کسی کسی معصوم جوانوں کو سوشل میڈیا پر غلط سنگت اور غلط ماحول میں دیکھ رہا ھوں تو کبھی کسی مجرم کو پانسی کے تختہ دار پر لٹکٹے ھوئے دیکھ رہا ھوں ،
کبھی کسی علم و ادب کے حوالہ سے تاریخی علاقہ کو جس کو امن کی چڑیا کہا گیا هو اور شریفوں کا شہر نوجوانوں کے سوشل میڈیا خاص طور ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر واحیا کلام بکتے دیکھ رہا ھوں تو کبھی کسی کو قتل و غارت کا علاقہ کہتے دیکھ رہا ھوں تو کبھی پر سکون علاقہ کو فضول اقسام کا اور غلط رویہ جات کا محور و مرکز هوتے دیکھ رہا ھوں ،
تو کبھی سکون بھری زندگی کو بے سکون اور بے سکون زندگی کو سکون بھری زندگی حاصل کرتے دیکھ رہا ھوں ،کبھی جانوروں کھوتی ،بلی ،کتا ،گدھا اور گھوڑے کی وجہ سے عدم برداشت پر دشمنیاں کا آغاز کرتے اور برے منطقی انجام پر دیکھ رہا ھوں تو کبھی زمین ،زر اور زن کی وجہ سے قتل و غارت دیکھ رہا هوں ،تو کبھی کسی رفیق کو رقیب اور کبھی کسی رقیب کو رفیق پن میں بدلتے دیکھ رہا ھوں ،ک
بھی کسی کو ہائی کورٹس تو کسی کو سپريم کورٹس کے دھکے کھاتے دیکھ رہا ھوں ،کبھی کسی کو رشتہ داری کی بھينٹ چڑھتے تو کبھی کسی کو وفاداری کی اعلیٰ مثال بنتے دیکھ رہا ھوں ،کبھی کسی کو حق کا ساتھ تو کبھی کسی کو ناحق کا ساتھ دیتے ھوئے دیکھ رہا ھوں کبھی کسی کو مختصر مگر جامع عملی زندگی کو اچھا ترين بنانے کا درس دیتے ھوئے تو کسی کو بڑا پن کی بجائے چھوٹا پن دکھاتے ھوئے دیکھ رہا ھوں کبھی کسی کو اللّه پاک کا ذکر و اذکار سے لطف اندوز تو کسی کو سدهو موسے والے کے گانے لگا کر دشمنی کو طول دیتے ھوئے دیکھ رہا ھوں
،میں نے سوشل میڈیا جو کہ فیک میڈیا کے طور پر بھی لوگ اس کا استعمال کرتے ھیں کو حقیقی معنوں میں اس کی مطلبی یاری کو جھوٹ پلار کی باتوں وقت گزاری میں تبدیل هوتے ھوئے دیکھا ،تو کبھی کسی سیاسی کو برملا جھوٹ کا پیمانہ لبریز کرتے ھوئے دیکھا ہے تو کبھی غریب عوام کو سیا سیوں کے در پر در بدر دھکے کھاتے ھوئے دیکھا ھے تو کبھی ذاتی مفادات اٹھانے اور خوشامد پرستی کی جنگ لڑتے ھوئے دیکھا ھے ،
خیر جس کو بھی سوشل میڈیا کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ یا ٹک ٹاک لائیو اکاؤنٹ کا غلط استعمال کرتے ھوئے دیکھا تو اداروں کے زریعے اس کو اس کا خميازہ بھی بھگتے ھوئے دیکھا ھے تو کبھی کسی سیاسیوں کو منفی سوچ کے مالک لوگوں کا ساتھ دیتے ھوئے بھی دیکھا ھے تو کبھی کسی انا پرست اور حلقہ کے غیور ورکر لیڈر کو انتقامی سیاسی وزیر و مشیر کو صدائے اللّه اکبر کے نعرے بلند کرتے ھوئے بھی دیکھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
کبھی صوفیہ گجراتن ٹک ٹاک کی واحیا خاتون کو ٹک ٹاک لائیو پر مسلمانوں کے مقدس مقامات خانہ کعبہ جو اللّه پاک کا گھر ھے کی بے حرمتی کرتے ھوئے دیکھا تو کبھی مسلمان قوم کو اس پر پوری دنیا میں احتجاج کرتے ھوئے دیکھا ،کبھی انٹر پول اداروں کے زریعے کم ظرف اور کم ترنسل کے بدمعاش اور بدمعاش مافیا کی گرفتاریاں انٹرپول کے زریعے دیکھ رہا ھوں تو کبھی سوشل میڈیا کے غلط استعمال پر مجرمین کو سائبر کورٹس میں سہزا یافتہ هوتے دیکھ رہا ھوں ،
کبھی خون سے ہاتھ رگنے والی قوموں کو اخلاقی عبادات سے اور انسانی مساوات کے درس و تبلیغ سے دور اور لوگوں کی بددعائیں سمیٹتا دیکھ رہا ھوں تو کبھی قابل نفرت قومیں بننے کا ایوارڈ انکو اپنے نام کرتے دیکھ رہا ھوں ۔
خیر کیا بتاؤں کیا کیا دیکھا ھے ٹک ٹاک کے بدمعاشوں کو سدهرتے ھوئے بھی دیکھا تو انکا مستقبل تباہ و برباد هوتے ھوئے بھی دیکھا ہے
جی تو میں بتا رہا تھا سوشل میڈیا کے استعمال اگر اچھا کرے گے تو اچھے نتائج زندگی میں ملے گے اگر غلط تو اسکا انجام بھی غلط بھگتنا پڑے گا ۔۔۔پھر آپ کی صبح مطلب آفتاب کو غروب هوتے ھوئے کوئی نہیں روک سکتا اور زندگی اجیرن ساری زندگی کی بن کر رہ جاۓ گی . .
اس کی سب اہم وجہ کہ ہم مذہب اسلام کے پیروں کار ھونے کے باوجود سدهو موسے والے کو اپنا آئیڈیل سمجھ بیٹھے ھیں ۔اگر آج بھی ہم اپنا قبلہ درست ٹھیک نہیں کرے گے سوشل میڈیا کے ٹھیک استعمال سے تو یقین مان جائیں چند منفی لوگوں کی وجہ سے برادریوں کے مثبت چہرے بھی نہ صرف قابل تضحیک بن کر رہ جاۓ گے بلکہ قابل مزمت و نفرت کردار بھی بنے گے ۔تو آئیے آج سے اس بات کا مصمم ارادہ کرتے ھیں کہ ہم اور ہماری نوجوان نسل سوشل میڈیا کا ٹھیک استعمال کرے گے
ورنہ ہمارا حشر مغل قوم کے آخری باشاہ
بہادر شاہ ظفر کےاس حسن ظن شعر کے ساتھ منسلک کیا جاۓ گا جو حلقہ احباب کی اجازت سے ان کے نام منصوب کرنا چاہتا ھوں ۔
صبح کے تخت نشیں شام کو مجرم ٹھہرے
ہم نے پل بھر میں نصیبوں کو بدلتے دیکھا
(بہادر شاہ ظفر )
شیخ غلام مصطفیٰ سی ای او و چیف ایڈیٹر جھنگ آن لائن نیوز نیٹ ورک 923417886500 +