جھنگ میں شیخ شیراز اکرم مع دیگر افراد کے تحریک انصاف کے مرکزی رہنما شیخ وقاص اکرم کے چھوٹے بھائی شیخ فواد اکرم کے ساتھ مبینہ طور پر گاڑی کا ٹکراؤ کے باعث پیش آنے والا واقعہ شدت اختیار کر گیا –
شیخ شیراز اکرم مع دیگر ساتھیوں نے لاری اڈہ پر شیل پمپ پر اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے چار افراد زخمی کر دیا، جن میں سے ایک نوجوان محسن نول کو سینے میں چیرتے ہوئے گولی نے تشویشناک حالت میں پہنچا دیا، جنہیں ڈسٹرکٹ ہسپتال جھنگ سے الائیڈ ہسپتال ریفر کیا گیا جو راستے میں ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا –
جبکہ دیگر زخمیوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال میں منتقل کیا گیا، مقتول محسن نول کے ورثاء نے شدید احتجاج کرتے ہوئے روڈ بلاک کر دیا –
مرحوم محسن نول جو کہ ایک ہفتہ قبل ملازمت پر آیا تھا تین ماہ قبل شادی ہوئی تھی اس واقعے میں قتل ہو گیا، مرحوم کی نماز جنازہ آج دو بجے دن لولہے شاہ قبرستان میں ادا کی جائے گی –

*جھنگ / لڑائی فائرنگ*
*جھنگ پولیس کا بروقت ریسپانس، چار ملزمان گرفتار کر لئے گئے*
علاقہ تھانہ سٹی میں سرگودھا روڈ پر شیخ فواد اکرم اپنے گن مینوں کے ہمراہ جا رہے تھے،
پٹرول پمپ کے قریب انکی گاڑیوں کی ٹکر شیخ مکرم وحید اور شیخ شیراز اکرم کی گاڑیوں کے ساتھ ہوئی ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق گاڑیوں کی معمولی ٹکر کے نتیجے میں دونوں پارٹیوں کے گن مینوں کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی
ابتدائی معلومات کے مطابق مکرم وحید کے گن مینوں کی فائرنگ سے شیخ فواد اکرم کے چار گن مین زخمی ہوئے
جنکی تفصیل ذیل میں درج ہے۔
محسن ولد محمد حسین بعمر 40 قوم نول( الائیڈ ریفر، راستے میں دم توڑ گیا)
افتخار احمد ولد محمد نواز بعمر 46 سال قوم میراثی
ساجد ولد عابد قوم نیازی بعمر 32 سال
عصمت اللہ ولد سیف اللہ بعمر 50 سال نیازی
مقامی پولیس نے فوری طور پر ریسپانڈ کرتے ہوئے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کردیا ہے۔
جبکہ شیراز اکرم ولد محمد اکرم اور مکرم وحید ولد وحید احمد کو دو گن مینوں سمیت گرفتار کر لیا گیا ہے۔


قانون کے مطابق ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ ڈی پی او بلال افتخار کیانی
قانون کو چیلنج کرنے والوں کیلئے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی، ڈی پی او بلال افتخار کیانی
معمولی تنازعے کو تشدد اور فائرنگ میں تبدیل کرنا معاشرے کے امن کیلئے خطرہ ہے، ڈی پی او بلال افتخار کیانی
شیخ وقاص اکرم کا ان کے بھائی پر ہونے والے قاتلانہ حملے پر رد عمل—————————————————————————
پریس ریلیز
اپوزیشن میں آنے کے بعد میں نے اور میرے خاندان نے دانستہ طور پر اپنے لائسنس یافتہ اسلحے کو گھروں تک محدود کر دیا اور اسے کسی بھی عوامی یا عملی استعمال سے مکمل طور پر الگ رکھا اسکے باوجود ہمارے لیے یہ خدشہ مسلسل موجود رہا کہ قانونی اسلحے کو ہی بنیاد بنا کر ہمارے خلاف بلاجواز اور ناجائز مقدمات قائم کیے جا سکتے ہیں۔ اسی اندیشے کے پیشِ نظر ہم نے عملاً خود کو غیر مسلح تصور کرتے ہوئے زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا اور اپنے تمام محافظوں کو بھی غیر مسلح رکھا۔
آج اسی فیصلے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ’’محفوظ پنجاب‘‘ میں میرے بھائی پر بزدلانہ اور منصوبہ بند حملہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ موجود نہتے محافظوں پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں تین افراد ٹانگوں میں گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے، جبکہ میرے پیٹرول پمپ کا ایک غریب اور بے گناہ ملازم سینے میں گولی لگنے سے جاں بحق ہو گیا۔
یہ امر نہایت تشویشناک ہے کہ ایک پرامن شہر، جو گزشتہ کئی برسوں سے ہماری اجتماعی کوششوں کے باعث امن کا گہوارہ بنا ہوا تھا، آج چند شرپسند اور بدمعاش عناصر کی وجہ سے دوبارہ بدامنی کی لپیٹ میں لایا جا رہا ہے۔ یہ عناصر نہ صرف ہماری ذات بلکہ پورے شہر کے امن کے دشمن ہیں۔
میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اس واقعے کی تمام سی سی ٹی وی فوٹیجز موجود ہیں، جن میں حملے کی مکمل منصوبہ بندی، ملزمان کی شناخت اور واردات کا طریقہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ شواہد اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ کسی قسم کی تاخیر یا مصلحت کے بغیر فوری کارروائی کی جائے۔
میں اس نہایت اہم حقیقت کی بھی نشاندہی کرنا چاہتا ہوں کہ میرے والد، جو رکنِ صوبائی اسمبلی پنجاب ہیں، انہی خدشات کے پیشِ نظر ایک روز قبل پولیس کے اعلیٰ حکام کے پاس خود گئے تھے، جہاں انہوں نے انہیں ممکنہ خطرات اور امن و امان کی بگڑتی صورتحال سے باقاعدہ طور پر آگاہ کیا اور یہ مطالبہ کیا کہ شہر میں ممکنہ انتشار اور شرپسندی کے خطرے کو روکنے کے لیے تمام ممکنہ اور مؤثر اقدامات فوری طور پر کیے جائیں۔
تاہم، افسوسناک امر یہ ہے کہ پولیس حکام نے نہ صرف ان خدشات کو سنجیدگی سے نہیں لیا بلکہ عملاً انہیں نظر انداز کر دیا، جس کا خمیازہ آج ایک بے گناہ شہری کی جان اور تین افراد کے زخمی ہونے کی صورت میں بھگتنا پڑا۔
میں پنجاب پولیس سے دوٹوک مطالبہ کرتا ہوں کہ واقعے میں ملوث تمام ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کو یقینی بنایا جائے اور ذمہ داران کو قانون کے مطابق مثالی سزا دی جائے۔
میں یہ واضح کرتا چلوں کہ اس معصوم شہری کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا۔ ہم نہ تو بدمعاشی کو قبول کریں گے اور نہ ہی اپوزیشن میں ہونے کے نام پر کسی ظلم یا زیادتی کو برداشت کریں گے۔ شہر کا امن ہماری اولین ترجیح ہے، اور ہم کسی کو بھی اس امن سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
ساری دنیا نے دیکھ لیا کہ کیا ہوا، شواہد موجود ہیں اور حقائق واضح ہیں۔ اب انصاف کا تقاضا ہے کہ ذمہ داران کو جلد از جلد ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے، انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی وہ تقریر، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے پنجاب سے بدمعاشی اور ڈالا کلچر ختم کر دیا ہے، آج ایک تلخ مذاق بن کر رہ گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے چند شرپسند عناصر جیپوں اور ڈالوں میں مسلح ہو کر شہر میں کھلے عام دندناتے پھر رہے تھے-
شہریوں کو ہراساں کیا جا رہا تھا، مگر ان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، چند روز قبل بھی انہی عناصر کی ایک گاڑی مسلح گارڈز سمیت پکڑی گئی تھی، مگر پولیس نے اسلحہ اور گاڑی برآمد ہونے کے باوجود ملزمان کو چھوڑ دیا۔
اگر اسی وقت ان کے سرغنہ کو قانون کے مطابق سزا دے کر منطقی انجام تک پہنچایا جاتا تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ اس کے بعد بھی چند روز قبل انہی افراد کی جانب سے ایک سرکاری ملازم سید کو سرِعام تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جو اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ نہ تو بدمعاشی ختم ہوئی ہے اور نہ ہی حکومتی رٹ بحال ہے، بلکہ مجرمان کو کھلی چھوٹ دے کر پنجاب کو دوبارہ خوف اور لاقانونیت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
آخر میں، میں اس کھلی دہشت گردی اور غنڈہ گردی کی بھرپور مذمت کرتا ہوں اور یہ توقع رکھتا ہوں کہ ملوث عناصر کو جلد از جلد ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ ساتھ ہی میں انتظامیہ کو یہ بھی متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ ایک طویل عرصے کے بعد اس شہر میں حالات بہتر ہوئے تھے، اور اگر اس نازک موقع پر قانونی کارروائی نہ کی گئی تو شہر کے حالات دوبارہ خراب ہو سکتے ہیں، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ انتظامیہ پر عائد ہوگی۔
ممبر قومی اسمبلی
شیخ وقاص اکرم
رپورٹ غلام اللہ فاروقی،انیس احمد پوری نمائندہ خصوصی جھنگ آن لائن نیوز نیٹ ورک
شیخ غلام مصطفیٰ سی ای او و چیف ایڈیٹر جھنگ آن لائن نیوز نیٹ ورک 923417886500 +