فلاحی تنظیمیں عوام اور حکومت پاکستان….. *کالم نگار *نزاکت خان بلوچ

*فلاحی تنظیمیں عوام اور حکومت پاکستان*

*کالم نگار*
*نزاکت خان بلوچ*

پاکستان میں عرصہ دراز سے مختلف فلاحی تنظیمیں ہر مشکل کی گھڑی میں دکھی انسانیت کی خدمت کرنے کے لیے میدان عمل میں ہوتی ہیں فلاحی ادارے معاشرے میں ریڈھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتے ہیں جب بھی کوئی مشکل آن پڑے یا حکومت عوامی فلاح و بہبود کے معاملات کو نظر انداز کرے تو یہ ادارے معاشرے میں بسنے والے لوگوں کا سہارا بنتے ہیں اس کے برعکس حکومتی عہدے دار میڈیا پر صرف مزمتی بیان پریس کانفرنسیں شروع ہوتی ہوئی جائے وقوعہ پر فوٹو سیشن کرتے ہوئے ختم ہو جاتی ہیں عملی طور پر کوئی بھی کردار موجود نہیں ہوتا ملک میں جب بھی کوئی آفت آتی ہے یا کوئی حادثہ پیش اتا ہے تو فلاحی تنظیمیں فرنٹ لائن پر ہوتی ہیں مشکل وقت میں عوام نے ہمیشہ فلاحی تنظیموں کے ساتھ مل کر لوگوں کی مدد کی –

پنجاب میں سیلاب کی تازہ مثال اپ کے سامنے ہے جب یہ آفت آئی تو پیپل ویلفیئر آرگنائزیشن ،خدمت خلق ،جسٹ فار ہیومینیٹی اور ایدھی جیسی کئی فلاحی تنظیمیں میدان عمل میں آ گئیں اور اپنی خدمات پیش کرنے کے لیے فوری امدادی کاروائیاں شروع کر دیں اسی طرح عوام کا جذبہ بھی قابل دید تھا عوام نے آفت زدہ لوگوں کی خدمت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی عوام کا جذبہ ان حکومتی عہدے داروں سیاست دانوں اور ان دانشوروں کے منہ پر تمانچہ تھا جو ہر معاملے میں عوام کو ہی قصور وار ٹھہرا کر ان کو ہی ذلیل و رسوا کرتے ہیں کاش کہ میرے ملک کو چلانے والی اشرافیہ عوام کی خدمت کا جذبہ لیے ملک و قوم کا سوچتے تو اج ہم اس نہس پر نہ پہنچتے کہ کبھی ہمیں ورلڈ بنک کے سامنے تو کبھی آئی ایم ایف کبھی کسی ملک تو کبھی کسی ملک سے امداد کے منتظر نہ ہوتے عوام کو بجلی گیس پانی اور بنیادی سہولتیں میسر نہیں بے روزگاری بڑھتی جا رہی ہے-

تعلیم و صحت کے شعبے میں کوئی پیش رفت نہیں حکومت کا کام ہے روزگار فراہم کرنا یہاں حکومت عوام کے روزگار ختم کرنے پہ لگی ہوئی ہے سینکڑوں قسم کے ٹیکس لگا کر عوام کو مہنگائی کی چکی میں پیسا جا رہا ہے چاروں طرف سے آمدنی کے باوجود عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ہماری گورننس کو بہتر بنانا حکومتی نمائندوں کا کام ہے مگر بدقسمتی سے یہاں سارا پیسہ اپنی ذاتی جائیدادیں اور اپنے بینک اکاؤنٹ بھرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں-

آخر ان سے کون سوال پوچھے گا میرے ملک کے لاکھوں نوجوان بے روزگاری کے در پہ ہیں اور جو سکول و کالجز چل رہے ہیں ان میں بھی اکثر فلاحی تنظیمیں چلا رہی ہیں اگر عوام نے ہی عوام کی خدمت کرنی ہے تو یہ حکومت کیا کرنے کے لیے بنائی جاتی ہے جہاں حکومت شوبز انڈسٹریز کو چلانے کے لیے فنڈ کا اجراء کرتی ہو مگر تعلیم کے لیے چندہ مانگنے کی ضرورت پڑ جائے انٹرٹینمنٹ کو حکومتی سرپرستی ہو اور تعلیم کے شعبے لاوارث ہوں تو مستقبل میں کیسی نسل پروان چڑھے گی-

اور اس سے ملک و قوم کے لیے کیا خطرات پیدا ہو رہے ہیں اس سے ہمیں بے خبر نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس ملک کے معمار ہم ہی ہیں ہم ہی عوام ہیں اور ہم ہی پاکستان ہیں۔

شیخ غلام مصطفیٰ سی ای او و چیف ایڈیٹر جھنگ آن لائن نیوز نیٹ ورک 923417886500 +