بزرگوں کی قدر ہم پر فرض ہے… کالم نگار :حکیم طاہر محمود جنجوعہ

بزرگوں کی قدر ہم پر فرض ہے

تحریر،،حکیم طاہر محمود جنجوعہ

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
اپ کو علم ہےکہ اج کل سخت سردی کا موسم چل رہا ہے
.ہر طرف دھند برف باری کا راج ہے .
شدید سردیوں میں بچوں, بڑوں, بوڑھوں کا کام کاج کیلئے باہر نکلنا انتہائی مشکل عمل ہے ۔
مگر پھر بھی پیٹ کی آگ بجھانے کیلئے تھوڑی بہت حرکت کرنی پڑتی ہے
سردی برداشت کرنی پڑتی ہے ۔
جس بات کی طرف میں اپنے سمیت سب کی توجہ کروانا چاہتا ہوں
وہ یہ ہے
جیسے ہی شدید سردی کے دو مہینے آتے ہیں
اکثر صبح سویرے مساجد میں اعلان سننے کو ملتے ہیں
اگرنیٹ چلایا جائے
ٹی وی ان کیا جائے
توفیس بک واٹس ایپ
و دیگر سوشل میڈیا پر ایک ہی طرح کی خبریں قطار باندھ لیتی ہیں
والد صاحب کا قضائے الٰہی سے انتقال ہو گیا
والدہ محترمہ ہم سے بچھڑ گئیں
ساس، سسر اس دنیا سے رخصت ہو گئےہیں
یہ محض اتفاق نہیں
آپ کو خاموشی سے خبردار کیا جا رہا ہے
کہ ان بزرگوں میں سے اکثریت سردی کی نذر ہو جاتے ہں
وہ بیچارے شدید سردی کا سامنا نہیں کر سکتے
جس کی وجہ ہماری غفلت کوتاہی لاپرواہی
ہماری توجہ نہ ہونے کی وجہ سے ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں
والدین کبھی اولاد سے کچھ نہیں مانگتے
ضرورت انتہا پر بھی ہو تب بھی نہیں مانگتے
یہ ان کی فطرت میں ہی نہیں ہوتا
سوچئے
ساری زندگی مسجد و مدرسے کے لیے چندہ مانگنے والا
مولوی بھی بڑھاپے میں اپنی اولاد سے ایک کمبل مانگنے کی ہمت نہیں کر پاتا
اس لیے سوال مت کیجیے۔
کیونکہ آپ پوچھیں گے تو جواب ہمیشہ یہی ملے گا:
“نہیں، مجھے کچھ نہیں چاہیے
اگر ماضی کی ورق گردانی کیجائے
تو اپ کو علم ہوگا جب ہمارے بزرگ گھروں کو شام محنت مزدوری کر گھر واپس لوٹتے تھے
تو تب انکے ہاتھ اور جیب خالی نہیں ہوتے تھے
انکو علم ہوتا تھا کہ جب میں گھر لوٹنا ہے
تو میرا چاند جیسا بیٹا دروازے پر
یرمیرا شدت سے انتظار کر رہا گا
انہوں نے اپ ایک دفعہ چیز کے اسرار اور پسند کو ہمیشہ کیلئے معمول بنایا
اور اج المیہ یہ ہے
کہ بابا امی جان ایک دفعہ انکار کردیں
تو ہم اس “نہیں” کو قبول کر لیتے ہیں
خود احساس کیجیے۔
خود ذمہ داری اٹھائیے۔
ان کے لیے
گرم رضائیاں لائیے،
گرم کپڑے، کوٹ،
موٹے موزے، مناسب جوتے،
اور گرم، طاقت بخش خوراک مہیا کیجیے
انہیں بھی سوب یخنی بادام اخروٹ پنجیری پائے اور کھجور مونگ پھلی کی ضرورت ہے
انہوں نے اپنے وقت میں یہ سب کچھ کھایا اور ہمیں کھلایا ہے
جو تو اپنے وقت میں کھا ہی نہیں پایا
انکی کی من پسند کی چیزیں ہوا کرتی تھیں
جو وہ کھاتے تھے
مگر اج آپ کھاتے ہیں
ان کیلئے کچھ نہیں لاتے
یہ وہ ہستیاں ہیں جو تیری ڈیمانڈ کے مطابق گجریلا سوہن حلوہ برفی وغیرہ تیرے لیئے چھپا کر لایا کرتے تھے
اج یہ والدین دو نوالوں کو ترس رہے ہیں
یادرہے یہ وہی والدین ہیں
جو اپنی تنگ دستی میں بھی ہر وہ ضرورت پوری کرتے تھے
جس پر تو خواہش ظاہر کرتا تھا۔تیری خواہش پہ اپنی بہت سی ضروریاتِ قربان کر دیتے تھے
وہ خود گرم شال اوپر نہیں کتا تھا
مگر تیرے لیئے گرم چیزیں گرم دستانے جراب بوٹ لیکر اتا تھا
وہ تیرے لیئےسخت سردی کے موسم میں چولہے سے اگ اٹھا کر تیرے کمرے میں لا کر رکھ دیتے تھے
وہ تیری گرمی سردی کا احساس کرتے تھے
تو رات کو ضد کرتا تھا
میں نے فلاں چیز لینی ہے
تھکے ٹوٹے اعضاء کے باوجود بازار سے تیری خواہش پوری کرتا
انہوں نے تیری خاطر کیا کچھ نہیں کیا
حالانکہ انکے دور میں ہیٹر نہیں ہوتے تھے
وہ جس حال میں بھی رہے
انہوں نے تیری گرمی سردی کا خیال رکھا
تیرے لیئے سویٹر جرسی کوث کی اپنی پرواہ کئے بغیر ضرورت پوری کی
اج وہ والدین ضرورت کی چیزوں کو ترس رہے ہیں
ایک باپ دس بیٹے پال لیتا ہے
محنت زدوری کرکے
مگر دس بیٹے ایک ماں باپ نہیں پال سکتے
یہ بات ذہن میں بٹھا لیجیے:
ہمیں انس بوڑھے ماں باپ کیلئے کیا کرنا چاہیے
ان کی رضائی آپ کی رضائی سے ڈبل ہونی چاہیےیعنی بہتر ہونی چاہیے
ان کے کپڑے آپ کے کپڑوں سے زیادہ گرم ہونے چاہئیں
کیونکہ بڑھاپے میں سردی زیادہ لگتی ہے اور قوتِ مدافعت باقی قوتوں کی طرح کمزور ہو چکی ہوتی ہے۔
سردیوں میں بزرگوں کی اموات میں جو غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے
وہ اکثراولاد کی اسی نالائقی کی وجہ سے ہوتا ہے
جو ان باتوں کا شعور ہی نہیں رکھتے
بے شک موت کا وقت متعین ہے
موت ایک اٹل حقیقت ہے
ہاد رکھیے
جس طرح آپ کے بچپن میں
والدین اپکے بارے خود دیکھتے تھے
کہ آپ کے گرم کپڑے پورے ہیں یا نہیں،
اب وہی رول آپ نے پلے کرنا ہے۔
پوچھنا نہیں ہے۔
خود دیکھنا ہے۔
خود انتظام کرنا ہے۔
یہ صرف ایک پیغام ہی نہیں،
یہ ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ بھی ہے
یہ دن یہ وقت یہ گھڑی اور یہ والدین جیسی نعمت دوبارہ نہیں ملے گی
اب وقت ہے انکی خدمت کر کے اپنی دنیا اور اخرت بہتر بنائیں
دن تبدیل ہوتے پتہ نہیں چلتا
یہ ایک امانت ہے،
ایک ذمہ داری ہے
جو اللّٰه نے آپ کے کندھوں پر رکھی ہے
خود بھی عمل کیجیے
اور دوسروں تک بھی یہ بات پہنچائیے
امید ہے آپ سمجھیں گے
اور عمل کریں گے
(ان شاء اللّٰه)
عزیز دوستو
یہ وہ نعمت خدا وندی ہے
جب یہ چلے جاتے ہیں
پیچھے پچھتاوا ہو سکتا ہے۔
اور کچھ نہیں ہو سکتا
انکے چلے جانے کے بعد دعاؤں کا دروازے بند ہو جاتے ہیں
اللہ نے اگر تمہیں استطاعت بخشی دی ہے
تو ضرورت مندوں کو جرسی ٹوپی کوٹ سویٹر بوٹ رضائیاں لے کر دہں
جن حسب استطاعت دوستوں کے والدین چلے گئے ہیں
وہ یہ چیزیں عطیہ کریں
دوسروں کے والدین میں اپنے والدین دیکھیں
یہ چیزہں اپکی زندگی بدل دیں گی۔ مرحوم والدین کے درجات بلند ھونگے
جو آپکے اور آپکے والدین کے لیے بروز محشر تسکین اور مغفرت کا باعث بنے گا
ان کی وجہ سے اللہ کریم آپ کی دنیا و آخرت بدل دے گا
غریب کی دعا
اپکے مال ، جان ، رزق میں برکتیں ڈال دےگی
ا پکے علم میں ہے
کہ دعا تقدیر بدل دیتی ہے
ابھی وقت ہے
ابھی مال جائیداد پیسہ ہے
نیکی کر لیں
اپکی تھوڑی سی کوشش
کسی کی زندگی کا سہارا بن سکتی ہے
دعا ہے کہ اللہ کریم ہم سب کو نیکی کی توفیق عطاء فرمائے
تاکہ ہم ایک دوسروں کے کام ائیں امین
کرو مہربانی تم اہل زمیں پر
خدا مہرباں ہو گا عرش بریں پر

شیخ غلام مصطفیٰ سی ای او و چیف ایڈیٹر جھنگ آن لائن نیوز نیٹ ورک 923417886500 +