مطلب کے بعد لوگ چہرے کیوں بدل لیتے ہیں
تحریر ،حکیم طاہر محمود جنجوعہ
جس معاشرے سوسائٹی بازار محلے گاؤں شہر میں تم اور ہم زندگی گزار رہے ہیں اس میں ہم سب سے ملنے والا ہر شخص اشرف المخلوقات میں شامل ہے اور ہم سے افغل و اعلی ہے ضرورت اورمطلب کے وقت وہ حضرت انسان کے اتنا قریب ہوتا ہے کہ سالوں سال اپ کو نظر نہ انے والا چہرہ مطلب پڑنے پر دن میں چھ دفعہ اپکو اپنی زیارت کرائے گا کبھی موبائل فون پر خیریت دریافت ہوگی تو کبھی گھر دوکان دفتر میں ملاقات کرائیں گے-
بالاخر انسان ہے سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ میرے بھائی دوست سجن بیلی کو اتنے عرصہ میں میری محبت کبھی نہیں ائی مجھے نہ چاہتے ہوئے بھی کبھی یاد نہیں کیا بالاخر دو دن بعد پتہ چلتا ہے کہ بھائی میں نے کچھ رقم ادھاری لینی تھی یا کسی محکمے کے افیسر سے کام تھا یا دوکان سے کوئی چیز ادھاری لینی تھی یہ سب کچھ کرنے کرانے کے بعد جب بھائی جان کا کام ہوجاتا ہے وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتا ہے اس کا مقصد حل ہوجاتا ہے-
تو پھر وہی دوریاں وہی رشتوں میں لا تعلقیاں جنم لے لیتی ہیں پھر حضرت انسان اکیلے سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ مجھ سے کیا غلطی کوتاہی خطا ہو گئی ہے کہ میرا یار دوست بھائی نے مجھے یاد نہیں کیا کبھی ملنے نہیں اتا اگر اسے یاد کیا جائے تو وہ کہتا ہے میاں جی مہر جی چوہدری صاحب سیال صاحب ڈاکٹر صاحب حکیم صاحب اج کل مصروفیت بڑھ گئی ہے –
جی تو بڑا کرتا تھا کہ اپ سے ملوں اپکی زیارت ہو مگر مجھے مصروفیت بڑی ہے ساتھ بیٹھا ایک بزرگ بولتا ہے بیٹا کیوں پریشان بیٹھے لگ رہے ہیں تو وہ مہر چوہدری نواب بولتا ہے بابا جی ایک وقت تھا جب میرے دوست بھائی رشتہ دار کو روپے پیسوں یادیگر ضروریات زندگی کے کام کروانے کی وجہ سے مجھ سے مطلب تھا –
تو وہ مجھے صبح شام فون کرتا گھر دوکان دفتر مطب پر اجاتا مگر اج جب اس کے سب مسئلے حل ہو گئے ہیں تو اس نے مجھے یاد تک نہیں کیا بابا ذرا ذور سے مسکرائے اور کہنے لگے کہ او بھولے شخص اج کون ہے جو اپنے مطلب نکل جانے کے بعد تجھے سلام کرنے ائے تجھ سے فون پر خیریت دریافت کرے یا تجھے اس کی ضرورت پڑے تو وہ تمہارے کام ائے اج کل مطلبی زمانہ ہے-
کسی کو عزت شہرت عہدہ روپیہ پیسہ نوکری مل جائے تو وہ اسے یاد کرے سلام کرے اس کا شکریہ ادا کرے اپنے حلقہ احباب میں کہے کہ میرے فلاں دوست نے میری مشکل میں میری مدد کی ہے برے وقت میں اس نے مجھے سپورٹ کیا ہے بہت کم انسان اس دور میں اپکو ملیں گے جو اپ کی اس محبت کو نسلوں یاد رکھیں گے جس معاشرے میں تم اور ہم نے جنم لیا ہے-
یہاں کوئی کسی کا ہمدرد نہیں یہاں کوئی کسی کا دوست نہیں یہاں کوئی کسی کا بھائی نہیں یہاں صرف ایک ہی بات ہے کہ مطلب نکل گیا ہے تو پہچانتے نہیں حضرت انسان جب تک کام نہیں ہوا ساتھ نہیں چھوڑیں گے کہیں گے ہمارا مرنا جینا اپ کے ساتھ ہے جب کام ہو گیا پھر پتہ نہیں تم کون ہواور ہم کون ہیں پنجابی میں کہتے ہیں غرض کی دوستی اللہ جل شانہ ہمیں خالص اللہ کی رضا کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ بھائی چارہ محبت اور اخوت کے ساتھ وقت نبھانے کی توفیق عطا فرمائے ہمیں ریا کاری سے بچائے ہمیں ایک دوسروں پر کیچڑ اچھالنے سے محفوظ رکھے آمین-
شیخ غلام مصطفیٰ سی ای او و چیف ایڈیٹر جھنگ آن لائن نیوز نیٹ ورک 923417886500 +وٹس آپ