لیڈر بننے کیلئے دل بڑا کرنا پڑتا ہے
تحریر وترتیب،حکیم طاہر محمود جنجوعہ
کسی شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے چیئرمین پرنسپل صدر سیاسی شخصیت الغرض کسی ادارے کے منیجر جس کے پاس عہدہ بڑا ہوگا اللہ اسے سوچ بڑی دے گا اللہ اسے حوصلہ بڑا دے گا اللہ اسے جرائت و بہادری بڑی دے گا اس کے ملنے اور چاہنے والے بڑے ہونگے مگرکہیں پر سکول کا سٹاف کبھی فورم کے لوگ کبھی مل کی لیبر اسے برا بھلا کہیں گے کبھی سیاسی کسی کے ڈیرہ پر کسی کی رہائش گاہ پر موجود ہو گا تو کوئی پڑھا لکھا ان پڑھ یہ کہے گا کہ اس نے میرا کونسا کام کیا ہے-
کیا ہمیں اس نے نوکری لیکر دی ہے کہ ہمیں کسی ادارے میں نوکری کے اڈر ہمارے ہاتھ میں تھمائے ہیں کہیں فورم کے لوگ کہیں گے کہ یہ لوگ ڈرامے بازی کرتے ہیں انہوں نے قوم کیلئے کیا کرنا ہے یا کیا ہے کہیں سکول کا سٹاف کہے گا اس نے ہمیں کبھی سکھ کا بیٹھنے نہیں دیا الغرض سب لوگ شکوے گلہ کرتے نظر ائیں گے ساتھ بھی ہونگے مل کر بیٹھیں گے بھی مگر شکوہ کرتے نظر بھی ائیں گے سیاسی شخصیات کو ووٹ بھی دیں گے مگر گلہ کرتے نظر ائیں گے المیہ یہ ہے کہ جو بڑا کسی ادارے تنظیم جماعت کا ہیڈ ہوتا ہے وہ بڑے حوصلے اور جرات کا پہاڑ ہوتا ہے-
اس میں بڑا صبر حوصلہ اور ہمت جرآت ہوتی ہے اسےعوام کے جزبات کا خیال ہوتا ہے حالانکہ وہ اسی قبیلے خاندان کا ہی فرد ہوتا پے اپنے وقت کا انتہائی جذباتی جنونی جوشیلہ ادمی ہوتا ہے مالک نے اسے یہ عہدہ ذمہ داری دے کر اس کا دل دماغ حوصلہ بڑا کردیا ہوتا ہے کہ وہ کسی بڑی ذمہ داری کے خواب دیکھ رہا ہوتا ہے وہ یہ چاہتا ہے کہ ہم نے اگے نکلنا ہے ہماری منزل بہت دور ہے اس کا خواب بہت سہانا ہے اس نے کم سوچ والوں سے لڑائی جھگڑے میں وقت نہیں گزارنا بلکہ قوم کو منزل کی طرف تیزی سے لے کر چلنا ہے وہ چھوٹی باتوں کو اہمیت نہیں دیتا بلکہ وہ چاہتا ہے کہ ہم کام کریں-
دنیا ہماری نہیں ہمارے ادارے کی محنت اور کام کو سراہیں ہماری جماعت سوسائٹی تنظیم کا وقار اس کا محور اور مقصد ہے جن کا خواب اچھا ہو ارادے منظم اور مضبوط ہوں وہ لوگوں سےالجھتے نہیں وہاں سے خاموشی سے گزر جاتے ہیں وہ غلط کام برداشت نہیں کرتے وہ جو کہتے ہیں اس بات پر کما حقہ پہرہ دیتے ہیں وہ سچ بات پر ڈٹ جاتے ہیں اور غلط بات کو کبھی قبول نہیں کرتے وہ لوگ محفل سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں مگر تاریخ انہیں ہمیشہ کیلئے زندہ رکھتی ہے اور انکے کرادر پر انگلیاں نہیں اٹھتی تاریخ انہیں مرد جوان لیڈر عظیم سپہ سالار جرات مند مضبوط اعصاب کا مالک لکھتی ہے-
تمہارے اچھا برا کہنے سے انکو کوئی فرق نہیں پڑتا انگلیاں ان پر اٹھتی ہیں جو کوئی کام کرتا ہے محنت کرنے والے منزل پا لیتے ہیں انگلیاں اٹھانے والے گلے کر کرکے خاموش ہو جاتے ہیں لوگ ان کے کرداروں پر پھر انگلیاں اٹھاتے ہیں کہ وہ غلط کہ رہے تھے حق سچ ہمیشہ غالب اجاتا ہے جھوٹ کی عمر نہیں ہوتی اللہ کریم ہمیں حق سچ کا ہمیشہ ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائے آمین اللہ کریم ہمیں اپنے اداروں اور قوم کے ساتھ خلوص نیت سے چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
شیخ غلام مصطفیٰ سی ای او و چیف ایڈیٹر جھنگ آن لائن نیوز نیٹ ورک 923417886500 +