آخر ہم سب نے رخصت ہونا ہے… کالم نگار… حکیم طاہر محمود جنجوعہ

اخر ہم سب نے کوچ کرنا ہے

تحریر حکیم طاہر محمود جنجوعہ

اج میں اور تو اس دنیا میں عیش وعشرت کی زندگی بسر کر رہے ہیں اس معاشرے میں کوئی امیر ہے تو کوئی غریب کوئی مہر ہے کوئی چوہدری کوئی نواب ہے کوئی غریب الغرض یہ قومیں یہ قبیلے انسان کی پہچان کیلئے بنائے گئے ہیں بات بڑے چھوٹے کی نہیں بات نصیب کی ہے ہم میں سے اکثر وبیشتر کئی کل کے لین لاڈ جاگیردار تھےمگر اج دربدر کی ٹھوکریں کھا رہا ہے کچھ کسی کے پاس کام کررہے ہیں-

کل اے سی کمرے میں رہتے تھے اج سر چھپانے کیلئے ان کے ہاں کمرہ نہیں کل کا غریب اج محنت کرکے کروڑ پتی بن گیا ہے اللہ کے فیصلے ہیں جسے چاہے عزت دے جسے چاہے ذلت دے یہ اس کی بادشاہی ہے جس کے محتاج تم اور ہم ہیں چرند پرند نباتات اس کی تابع ہیں حضرت انسان تو کس بات پر غرور کرتا ہے تو ایک گندے پانی کے قطرے سے تخلیق کیا گیا ہے-

تجھے اللہ نے دنیا میں چار روپے پیسے دیئے پھر تو غریبوں کی جائیدادوں پر قبضے کرنے لگا تو نے غریب کو بے قصور مارنا شروع کردیا تو یہ نہیں جانتا کہ تیرا باپ بھی ایک مزدور و محنت کش تھا اس نے خلوصِ نیت سے کام کیا اللہ نے اسے دنیا کی ہر وہ نعمت عطا کی جس کا وہ سو چ بھی نہیں سکتا تھا ہم نے بلند و بالا محل تو بنا لیئے سفر کرنے کیلئے کروڑوں روپوں کی گاڑیاں تو خرید لیں دنیا کے کام کاج کیلئے نوکر چار رکھ لیئے مگر یہ عزت شہرت عارضی ہے ہم جس دنیا میں رہتے ہیں یہاں بڑے جاگیرداروں سے تعلق قائم کئے تاکہ لوگ کہیں مہر صاحب خان صاحب نواب صاحب کے بڑے اگے پیچھے تعلقات ہیں-

یہ دنیا کی عزت ادھر دنیا میں ہی رہنی ہے مگر کو میرے اور تیرے کام انی ہے جس سے ہماری اخروی زندگی آرام دہ ہونی ہے وہ ہے اچھے اخلاق سے اچھے کردار سے اچھی اور موادب گفتگو سے غریب پروری سے تاکہ جب ہم دنیا سے جائیں تو لوگ کہیں کہ یہ مجھ سے بڑی محبت کرتا تھا کئی دفعہ میں راستے میں پیدل ارہا تھا میرے پاس سواری نہیں تھی مگر خان صاحب میاں صاحب نے ڈرائیور سے گاڑی رکوا کر مجھے ساتھ بٹھایا کوئی کہے کہ مجھے ضرورت تھی میں نے میاں صاحب سے گاڑی مانگی تو انہوں نے ہمیں گاڑی بھی دی اور ہم سے تیل بھی نہیں ڈلوایا میاں صاحب جب بھی گندم اٹھاتے تو غریبوں اور بیوہ عورتوں کے گھروں میں بھیجتے دراصل یہ وہ لوگ۔ تھے جن کے دلوں میں اللہ کا ڈر اور قرب الہی کا شوق ہو پھر دیکھ اللہ تیرے مال جان رزق میں برکتیں کیسے ڈالتا ہے-

ہم جس شعبہ زندگی سے بھی تعلق رکھنے ہیں ہمیں چاہیئے کہ امیر غریب کااحترام ایک جیسا ہی کرنا چاہیئے کیونکہ دونوں حضرت ادم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں ہم سب کا رب ایک نبی ایک کلمہ ایک خانہ کعبہ ایک مسجد نبوی ایک پھر سب سے بڑھ یہ بات کہ ہم نے مر کر جہاں جانا ہے وہ امیر غریب کا قبرستان ایک ہی ہے ائیں دلوں سے نفرت کینا بغض ختم کرکے اپس میں پیار محبت کریں بھائی چارے کی فضا قائم کریں اللہ کے دیئے ہوئے مال سے صدقہ خیرات کریں-

تاکہ جب دنیا سے تیرامیراجا نے کا وقت ائے تو مرتے وقت زبان پر کلمہ جاری ہو جب مساجد کے سپیکروں پرتیرے سفر اخرت کا اعلان ہو تو ہر زبان پر ایک ہی آواز ہو یار وہ بہت اچھا انسان تھا غریبوں کا ہمدرد اور غمگسار تھا اللہ کریم ہماری دنیا اور آخرت بہتر فرمائے آمین-

شیخ غلام مصطفیٰ سی ای او و چیف ایڈیٹر جھنگ آن لائن نیوز نیٹ ورک 923417886500 +