کھلا خط
برائے توجہ وفاقی وزیرِ ریلوے، محمد حنیف عباسی
جنابِ عالی!
السلام علیکم
میں یہ سطور بطور صحافی نہیں بلکہ جھنگ کے تیس لاکھ دھڑکتے دلوں کی ترجمانی کرتے ہوئے رقم کر رہا ہوں ـ یہ قلم کسی فرد کا نہیں، اُس مزدور کی آہ، اُس طالب علم کی امید اور اُس مریض کی بے بسی کی آواز ہے جو ریل کی بند پٹریوں کے ساتھ اپنے خواب بھی رکے ہوئے دیکھ رہا ہے۔
جناب وزیر صاحب!
جھنگ کی سرزمین کبھی ریل کی سیٹی سے جاگتی تھی۔ صبح کی روشنی کے ساتھ اسٹیشن پر چہل پہل ہوتی، مزدور اپنے تھیلے سنبھالتے، طلبہ کتابیں اٹھائے امید کے سفر پر نکلتے اور مریض بروقت علاج کی امید میں بڑے شہروں کا رخ کرتے۔ مگر آج وہی اسٹیشن خاموش ہے، پٹریاں سنسان ہیں اور سڑکوں پر پرائیویٹ ٹرانسپورٹ مافیا کا بے رحم راج قائم ہے۔
آبادی، ضرورت اور مجبوری
ضلع جھنگ کی آبادی تیس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ روزگار، تعلیم اور علاج کی خاطر روزانہ ہزاروں افراد شورکوٹ، سرگودھا، ملتان اور راولپنڈی کا سفر کرتے ہیں۔ محتاط اندازے کے مطابق کم از کم تین سے پانچ ہزار شہری یومیہ بین الاضلاعی سفر پر مجبور ہیں۔ مگر دن کے اوقات میں ٹرین نہ ہونا ان کے لیے صرف تکلیف نہیں، ایک مسلسل معاشی سزا ہے۔
بند ٹرینیں ـ ٹوٹتے خواب
جناب عالی!
Rohi Express کبھی چلتی تھی، مگر یہ روٹ زیادہ تر سکھر اور شمالی علاقوں کے لیے تھا اور آج بند ہے۔
لیکن جھنگ کے لوگوں کے لیے سب سے اہم اور فوری ضرورت Sandal Express کی ہے۔ یہ ٹرین Multan سے Sargodha تک چلتی تھی، صرف 3–5 بوگیاں تھیں، مگر سب سے آسان، سستا اور باوقار سفر فراہم کرتی تھی۔
سڑکوں پر لُٹتی عوام
آج پرائیویٹ وینوں اور بسوں میں کرایے بڑھ چکے ہیں۔ اوورلوڈنگ معمول ہے، اضافی چارجز عام ہیں، اور مسافر کی عزت نفس کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔ ایک دیہاڑی دار مزدور جس کی یومیہ آمدن محدود ہے، وہ آدھی کمائی سفر پر خرچ کر کے گھر لوٹتا ہے۔ ایک ماں جو بیمار بچے کو علاج کے لیے لے جانا چاہتی ہے، کرایہ سن کر لرز اٹھتی ہے۔ یہ صرف سفری مسئلہ نہیں، یہ معاشی ناانصافی کی کھلی تصویر ہے۔
تقاضا انصاف کا
جناب وزیر صاحب!
ہم کسی رعایت کے طلبگار نہیں، ہم اپنا حق مانگ رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ:
Sandal Express کو دوبارہ جھنگ کے اسٹیشن سے فوری گزارا جائے۔
کم از کم ایک صبح اور ایک شام کی روزانہ سروس یقینی بنائی جائے۔
کرایوں کو عوامی استطاعت کے مطابق مقرر کیا جائے۔
اگر Sandal Express فوری بحال ہو جائے تو جھنگ کے غریب شہریوں کو بے پناہ ریلیف ملے گا، طلبہ امتحانات میں بروقت پہنچ سکیں گے، مزدور اپنی یومیہ کمائی کے بوجھ سے آزاد ہوں گے، اور مریض بروقت علاج حاصل کر سکیں گے۔ یہ صرف ایک ٹرین کی بحالی نہیں، بلکہ جھنگ کے عوام کے لیے امید کی کرن اور زندگی کی آسانی کی علامت ہوگی۔
یہ مطالبہ سیاست نہیں، ضرورت ہے۔ یہ آواز احتجاج نہیں، فریاد ہے۔ اگر ریل دوبارہ چلے گی تو نہ صرف سفر آسان ہوگا بلکہ جھنگ کی معیشت میں نئی روح دوڑ جائے گی۔
جناب عالی!
پٹریاں آج بھی وہیں ہیں، اسٹیشن آج بھی کھڑا ہے، مسافر آج بھی منتظر ہیں۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ وزارتِ ریلوے جھنگ کو دوبارہ قومی دھارے میں شامل کرے۔ ہمیں یقین ہے کہ آپ کے فیصلے سے خاموش پٹریاں پھر سے بول اٹھیں گی اور جھنگ کے دل میں امید کی سیٹی گونجے گی۔
والسلام
ڈاکٹر ظہور احمد زاہد کھرل
چیف ایڈیٹر، دی جرنلسٹ انٹرنیشنل لاہور
سابق وائس چیئرمین پریس کلب جھنگ
👁️ Estimated Views 264