جھنگ (شیخ محمد عرفان گولڑوی) ​فالج اب لاعلاج مرض نہیں رہا ، ‘ٹینیکٹی پلیز’ انجکشن کا بروقت استعمال مریض کو معذوری سے بچا سکتا ہے، ڈاکٹر غلام شبیر ملک کنسلٹنٹ نیورو فزیشن ڈسٹرکٹ ہسپتال جھنگ کی میڈیا سے گفتگو

​ڈاکٹر غلام شبیر ملک کنسلٹنٹ نیوروفزیشن DHQ ہسپتال کا جھنگ کے عوام کے لیے بڑا پیغام: فالج اب لاعلاج نہیں، ‘ٹینیکٹی پلیز’ انجکشن کا بروقت استعمال مریض کو معذوری سے بچا سکتا ہے
​خصوصی رپورٹ : شیخ محمد عرفان گولڑوی (صحافی و کالم نگار جھنگ)
​فالج (اسٹروک) کے مریضوں کے لیے جدید ترین انقلابی دوا ‘ٹینیکٹی پلیز’ کا تعارف اور بروقت علاج کی اہمیت ​جھنگ: مادرِ وطن پاکستان بالخصوص ضلع جھنگ میں اعصابی و دماغی امراض (Neurology) کے حوالے سے نمایاں اور معتبر نام، سینیئر کنسلٹنٹ نیورو فزیشن ڈاکٹر غلام شبیر ملک نے ایک خصوصی نشست کے دوران سینیئر شیخ محمد عرفان گولڑوی سے گفتگو کرتے ہوئے فالج کے جدید طریقہ علاج پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا کہ میڈیکل سائنس نے اب اتنی ترقی کر لی ہے کہ فالج جیسا جان لیوا اور معذور کر دینے والا مرض بھی اب لاعلاج نہیں رہا، بشرطیکہ مریض کو صحیح وقت پر صحیح ہسپتال پہنچا دیا جائے۔

​ڈاکٹر غلام شبیر ملک نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے بتایا کہ فالج (اسٹروک) بنیادی طور پر ایک شدید طبی ایمرجنسی ہے جس میں دماغ کی شریانوں میں خون کا لوتھڑا (کلاٹ) جم جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دماغ کے متاثرہ حصے کو خون اور آکسیجن کی سپلائی معطل ہو جاتی ہے، اور اگر چند گھنٹوں کے اندر اس کا تدارک نہ کیا جائے تو دماغی خلیات مستقل طور پر مردہ ہو جاتے ہیں، جس سے مریض عمر بھر کے لیے معذور ہو سکتا ہے یا موت کے منہ میں جا سکتا ہے۔​ڈاکٹر صاحب نے بین الاقوامی طبی رہنما اصولوں اور فراہم کردہ لٹریچر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اب فالج کے مریضوں کے لیے ایک جدید ترین اور انتہائی مؤثر انجکشن ٹینیکٹی پلیز (Tenecteplase 50mg) متعارف ہو چکا ہے۔

یہ دوا فالج کے علاج میں ایک معجزے سے کم نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی جدید لائف سیونگ دوا ہے جو دماغ کی بند شریان میں موجود کلاٹ (خون کے لوتھڑے) کو فوری طور پر گھلا دیتی ہے، جس سے خون کی روانی سیکنڈوں میں بحال ہونا شروع ہو جاتی ہے۔​اس انجکشن کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ورید (رگ) کے ذریعے صرف ایک بار (Single IV Bolus) دیا جاتا ہے، جو کہ انتہائی آسان، تیز اور محفوظ طریقہ کار ہے۔

اس دوا کے بروقت استعمال سے دماغ کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کا خطرہ نہ ہونے کے برابر رہ جاتا ہے اور مریض کی معذوری سے بچنے اور معمول کی زندگی کی طرف واپسی کے امکانات سو فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔​سینیئر نیورو فزیشن ڈاکٹر غلام شبیر ملک نے اس بات پر شدید زور دیا کہ فالج کے حملے کے بعد کے ابتدائی 4.5 (ساڑھے چار) گھنٹے مریض کے لیے انتہائی فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹینیکٹی پلیز انجکشن کا سو فیصد فائدہ تبھی ممکن ہے جب یہ علامات شروع ہونے کے ساڑھے چار گھنٹے کے اندر اندر مریض کو لگا دیا جائے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس دوا کی افادیت کم ہوتی جاتی ہے،

اس لیے فالج میں ایک ایک سیکنڈ قیمتی ہوتا ہے۔​ڈاکٹر صاحب نے عوام الناس کی سہولت کے لیے فالج کو فوری پہچاننے کا عالمی فارمولا بیان کیا:
​F – Face (چہرہ): چہرہ ایک طرف لٹک جانا یا مسکراتے وقت ٹیڑھا ہو جانا۔
​A – Arm (بازو): ایک ہاتھ یا بازو میں شدید کمزوری یا سن پن محسوس ہونا۔
​S – Speech (بولنا): بولنے میں دشواری، ہچکچاہٹ یا آواز کا تبدیل ہو جانا۔
​T – Time (وقت): یہ علامات دیکھتے ہی وقت ضائع کیے بغیر فوراً ہسپتال روانگی۔

​ڈاکٹر غلام شبیر ملک نے کالم کے ذریعے عوام الناس اور طبی حلقوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ٹینیکٹی پلیز (Tenecteplase) اگرچہ ایک انقلابی دوا ہے، لیکن یہ ہر اسٹروک کے مریض کو نہیں دی جا سکتی۔ یہ انجکشن صرف اور صرف ایک ماہر نیورو فزیشن یا اسٹروک اسپیشلسٹ کے معائنے، سی ٹی اسکین (CT Scan) کی رپورٹ اور ضروری خون کے ٹیسٹوں کے بعد ہی لگایا جاتا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ فالج شریان بلاک ہونے کی وجہ سے ہی ہوا ہے نہ کہ برین ہیمرج (شریان پھٹنے) کی وجہ سے۔

​اسٹروک ایک ایمرجنسی ہے، اس میں وقت ضائع کرنا زندگی ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ علامات ظاہر ہوتے ہی ٹوٹکوں میں وقت برباد کرنے کے بجائے فوراً لائف سیونگ ہسپتال پہنچیں۔”
​کالم کے اختتام پر سینیئر صحافی شیخ محمد عرفان گولڑوی نے ڈاکٹر صاحب کی اس طبی مہم اور جھنگ کے عوام کے لیے اس عظیم آگاہی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس معلوماتی مواد اور جدید علاج کی تشہیر سے بے شمار قیمتی جانوں کو معذوری سے بچایا جا سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب مل کر اس پیغام کو گھر گھر پہنچائیں: “فوری پہچانیں، فوراً ہسپتال پہنچیں اور زندگی بچائیں!”

شیخ غلام مصطفیٰ سی ای او و چیف ایڈیٹر جھنگ آن لائن نیوز نیٹ ورک 923417886500 +