جوبن کھلے مرجھاگیا!!! تحریر…… پروفیسر حافظ عتیق اللہ عمر

جوبن کھلے مرجھاگیا!!!
تحریر مسلسل
پروفیسر حافظ عتیق اللہ عمر
90 کی دہائی میں حافظ عبدالروف یزدانی حفظ اللہ تعالی کا نام سنا تھا بالکل علامہ حبیب الرحمن یزدانی شہید رحمہ اللہ علیہ والاانداز اور طریقہ
علامہ حبیب الرحمن یزدانی شہید رحمہ اللہ کی پوری زندگی عقیدۂ توحید کی دعوت اور اس کے پرچار میں گزری۔ انہوں نے توحید و سنت کا پیغام پہنچانے کی پاداش میں بے شمار آزمائشیں، تکالیف اور صدمے برداشت کیے۔ کبھی قاتلانہ حملوں کا سامنا کیا، کبھی اپنے جگر گوشہ انعام الرحمن کی شہادت کا عظیم صدمہ برداشت کیا، مگر پھر بھی حق کی دعوت سے ایک قدم پیچھے نہ ہٹے۔
اسی دعوتِ توحید کو انہی کے انداز اور لہجے میں آگے بڑھانے والے محترم حافظ عبدالرؤف یزدانی صاحب جن سے اللہ کے دین کے لیے دوستی ہو گئی اور میری بیماری میں میرا بڑا خیال رکھا دوائی کامشورہ دیتے شوگر کے بارے میں نصیحت فرماتے
نے بھی اس دور میں حق بات بیان کرنے کی وجہ سے بے شمار مشکلات جھیلیں۔
متعدد مقدمات کا سامنا کیا،
گزشتہ حکومت کے دور میں فورتھ شیڈول میں بھی رہے،
پھر بیماری آئی اور فالج جیسی آزمائش سے دوچار ہوئے۔
اب اللہ تعالیٰ نے ایک اور کڑی آزمائش سے انہیں گزارا ہے کہ ان کا حافظِ قرآن بیٹا جو بیٹوں میں سب سے چھوٹا تھا انداز بالکل حضرت یزدانی والذ تھا اتنی چھوٹی عمر تلاوت کرتا اور اشعار پڑھتا تو لوگوں کے دل موہ لیتا
اچانک ایک حادثے میں اللہ تعالیٰ کو پیارا ہو گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون بلاشبہ یہ حافظ عبدالرؤف یزدانی صاحب اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے انتہائی بڑا صدمہ ہے۔
ہم اللہ رب العالمین سے دعا گو ہیں کہ بیٹے کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے، اس کے درجات بلند فرمائے، اور حافظ عبدالرؤف یزدانی صاحب سمیت تمام اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، ان کے غم کا بہترین نعم البدل عطا کرے، اور انہیں اپنے فضل و کرم سے ثابت قدم رکھے۔
آمین
معصوم یزدانی رحمۃ اللہ علیہ کے جنازے میں ہزاروں علماء اور طلباء کی شرکت بلاشبہ ایک طرف لوگوں کا دین حافظ صاحب سے پیار اور دوسری طرف ننھے یزدانی شہید رحمہ اللہ علیہ کو خراج عقیدت تھا جانا تو ہر کسی نےاس سفر پر ہے لیکن اتنے بہتر انداز میں رخصت کرنا اسلام سے لگاو کا نتیجہ ہے
اللہ تعالی اسے جنت الفردوس میں اپنے والدین اور ہمارا میزبان بنائے
امین ثم امین