جھنگ (شیخ غلام مصطفیٰ) حکومت پڑوسی ملک سے کپڑے کی درآمد پر پابندی لگائے، فیصل آباد کے بعد جھنگ پاور لومز،سائیزنگ اور ٹیکسٹائل کے حوالے سے دوسرا بڑا شہر ہے، کچھ عرصہ سے یہ انڈسٹری ایک بیمار صنعت کا درجہ اختیار کر چکی ہے جس کی بنیادی وجہ کپڑے کی درآمد ہے، ان خیالات کا اظہار محمد عمر رامے سینئر نائب صدر اور شیخ مغیث احمد سابقہ صدر جھنگ چیمبر پاور لومز ایسوسی ایشن نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا ،رپورٹ انیس احمد پوری نمائندہ خصوصی جھنگ آن لائن نیوز نیٹ ورک

پریس ریلیز
کاٹن انڈسٹری کسی بھی ملک کی معاشیات میں کلیدی کردار کی حامل ہوتی ہے چھوٹی اور درمیانی درجےکی صنعتیں روزگاری کی فراہمی میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی ہیں۔

جھنگ پاور لومز،سایزنگ اور ٹیکسٹائل کے حوالے سے پاکستان کا دوسرا بڑا شہر ہے فیصل آباد جسے ٹیکسٹائل کا مانچسٹر کہا جاتا ہے اس کے بعد جھنگ پاور لومز کا گڑھ ہے ہزاروں لوگ بلواسطہ یا بلا واسطہ اس انڈسٹری سے منسلک ہیں-

لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے یہ انڈسٹری ایک بیمار صنعت کا درجہ حاصل کر چکی ہے جس کی بنیادی وجہ بغیر کسی کوٹے کہ بلا ضروت کپڑے کی امپورٹ ہے ان خیالات کا اظہار محمد عمر رامے سینئر نائب صدر اور شیخ مغیث احمد سابقہ صدر جھنگ چیمبر نے پاور لومز ایسوسی ایشن کے نمائندگان سے بات چیت کے دوران کیا –

شیخ عادل سابقہ مجلس عاملہ نے کہا کہ جھنگ کی ساری پاور لومز انڈسٹری آخری سانسوں میں ہے اگر یہ انڈسٹری بند ہو گئی تو ہزاروں لوگ بے روزگار ہوں گے بلکہ اربوں روپے کے ٹیکس کا وفاقی حکومت کو نقصان ہوگا پاور لومز ایسوسی ایشن نمائندگان نے مزید کہا کہ ایک طرف چین سے کپڑا درآمد کرنے سے حکومت پاکستان کا کروڑوں ڈالر کا فارن ایکسچینج ضائع ہو رہاہے اور دوسری طرف عوام میں بے روزگاری اور بے چینی بڑھ رہی ہے-

انہوں نے مطالبہ کیا کہ جھنگ چیمبر کے پلیٹ فارم سے حکام بالا سے درخواست کی جائے کہ چین سے کپڑے کی امپورٹ پر فوری طور پر پابندی لگائی جائے تاکہ ملکی صنعت فروغ پذیر ہوسکے-

شیخ غلام مصطفیٰ سی ای او و چیف ایڈیٹر جھنگ آن لائن نیوز نیٹ ورک 923417886500 +